ڈاکٹر محمد اسلم علیگ
یہ صرف درسگاہ نہیں، داستان ہے۔
یہ صرف یونیورسٹی نہیں، یونیورس ہے — جہاں خواب جنم لیتے ہیں، سوچیں پروان چڑھتی ہیں، اور کردار نکھرتے ہیں۔
یہاں کی اینٹ اینٹ بولتی ہے، کہ “ہم نے قوم کے معماروں کو بنتے دیکھا ہے۔”
یہاں کی فضا گواہ ہے، کہ “ہم نے خوابوں کو حقیقت میں ڈھلتے دیکھا ہے۔”
جب ۲۰۰۵ میں میرے قدم اس شہرِ علم و ادب میں داخل ہوئے، تو میں صرف ایک طالبعلم نہیں، ایک مسافرِ فکر تھا۔ علیگڑھ نے نہ صرف علم دیا، بلکہ ادب سکھایا، اخلاق دیا، وقار بخشا، اور سب سے بڑھ کر — پہچان عطا کی۔
وہ چھ سال، ۲۰۰۵ سے ۲۰۱۱ تک، میری زندگی کا وہ سرمایہ ہیں جسے نہ وقت چھین سکتا ہے، نہ فاصلے مٹا سکتے ہیں۔
۲۰۱۲ میں خوابوں کا شہر ممبئی میرا نیا مسکن بنا، مگر دل کا مسکن، روح کا مرکز، آج بھی علیگڑھ ہی ہے۔
علیگڑھ کی شب، علیگڑھ کا سکوت
بیس جون کی شب علیگڑھ آنا نصیب ہوا۔ جیسے ہی ٹرین علیگڑھ اسٹیشن پر رکی، دل کی دھڑکنیں ایک خاص ردھم پر آ گئیں۔
ہر قدم کے ساتھ ماضی کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔
ہر گلی، ہر نکڑ، ہر درخت، ہر دیوار گویا مجھے آواز دے رہی تھی: “واپس آ گئے؟ ہم نے تمہیں یاد کیا!”
سیدھا طبیہ کالج کے دروازے پر پہنچا۔ وہی سرسبز و شاداب کیمپس، وہی وقار، وہی تمکنت۔
دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر تصویر لی، اور تصویر میں صرف چہرہ نہیں، ایک عہد قید ہو گیا۔
پھر قدم بڑھے شمشاد کی چائے کی طرف — وہی کڑک چائے، وہی مخصوص خوشبو، اور وہی مٹی کی سوندھی مہک جس نے برسوں پہلے دل جیت لیا تھا۔
شمشاد کی چائے صرف چائے نہیں، ایک روایت ہے۔
یہ کپ ہاتھ میں ہو تو گفتگو بھی رواں ہوتی ہے، یادیں بھی تازہ، اور دل بھی نرم۔
کھانوں کا ذائقہ، یادوں کا تڑکا
علیگڑھ کی خوشبو صرف کتابوں میں نہیں، کچن میں بھی بستی ہے۔
صبح کا آغاز طبیہ کالج ہاسپٹل کے سامنے اسلام ڈھابہ کے مٹر ی آملیٹ کے ساتھ ہوا — ہر نوالہ ایسا گویا بچپن کی گود میں لوٹ آیا ہوں۔
ناشتے کی وہ سادگی جس میں محبت کی لذت تھی۔ نہ کوئی ہوٹل کا شور، نہ کوئی کیفے کا دکھاوا — صرف مخلص ذائقہ اور خالص احساس۔
دوپہر کو شمشاد کی بریانی نصیب ہوئی — وہی خوشبودار چاول، گوشت کا بہترین امتزاج، مصالحوں کا ناپ تول، اور اوپر سے کھانے والے کے چہرے پر وہی مسکراہٹ جو صرف بچپن کی بریانی پر آتی تھی۔
یہ بریانی صرف کھانے کی چیز نہیں، یادوں کا زعفران ہے۔
اور شام؟
شام کا اختتام ٹی ایم کے کھانے پر ہوا — جہاں نہ صرف پیٹ بھرا، بلکہ دل بھی۔
یہ کھانا صرف غذائی ضرورت نہیں، بھائی چارے کی گواہی ہے، دوستوں کی بے تکلفی ہے، اور ایک سادگی ہے جو آج کے زمانے میں ناپید ہو چکی ہے۔
اساتذہ کی شفقت، دوستوں کی صحبت
اس دورے میں چند اساتذہ سے ملاقات ہوئی — وہی شفقت، وہی دعائیں، وہی نگاہوں کی ٹھنڈک۔
استاد وہی ہوتا ہے جو وقت کے گزرنے کے باوجود آپ کو بھولتا نہیں، اور آپ جسے کبھی بھول نہیں سکتے۔
دوستوں سے ملاقات ہوئی — کچھ وہ جو اب بھی علیگڑھ میں ہیں، کچھ وہ جو میری طرح بکھر گئے ہیں، مگر دل میں علیگڑھ سموئے ہوئے ہیں۔
ہم نے باتیں کیں، قہقہے لگائے، پرانی شرارتیں یاد کیں، اور وقت کے پر کاٹ کر پھر سے طالب علمی کے زمانہ میں پہنچ گئے۔
علیگڑھ کا کلچر، ایک زندہ تہذیب
یہاں کی زندگی میں ایک خاص آہنگ ہے۔
ایک وقار ہے گفتگو میں، ایک سلیقہ ہے رہن سہن میں، ایک توازن ہے علم و ادب میں۔
یہاں کے مشاعرے، تقریری مقابلے، ہال کی زندگی، کامن روم کا ہنگامہ، لائبریری کا سکوت، مسجد کی روحانیت — سب مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں جس میں صرف تعلیم نہیں، تربیت بھی ہوتی ہے۔
یہ وہ تربیت ہے جو کسی نصاب میں نہیں، مگر زندگی بھر ساتھ رہتی ہے۔
علیگڑھ کی شخصیت جامع ہے — نہایت مذہبی اور نہایت روادار، نہایت سادہ اور نہایت عمیق۔
یہاں سر سید کا خواب اب بھی ہر کلاس روم میں سانس لیتا ہے، ہر استاد کی بات میں جھلکتا ہے، اور ہر طالبعلم کے خواب میں بستا ہے۔
ہم علیگرین صرف طالبعلم نہیں، تہذیب کے پیامبر ہیں؛
صرف طالبعلم نہیں، ایک پیغام کے سفیر ہیں؛
صرف گریجویٹ نہیں، ایک نظریے کے امین ہیں؛
صرف ڈگری یافتہ نہیں، ایک روایت کے وارث ہیں؛
جہاں بھی جاتے ہیں، علیگڑھ کی مٹی کی خوشبو ہمارے ساتھ چلتی ہے۔
ہم جہاں بھی جائیں، دل میں علیگڑھ کا رنگ لے کر جاتے ہیں؛
اور جب لوٹیں، تو یہاں کی مٹی کو چوم کر رخصت ہوتے ہیں۔
رخصت، مگر مکمل نہیں
اب دہلی کا سفر ہے، پھر ممبئی کی واپسی — مگر حقیقت یہ ہے کہ علیگڑھ سے واپسی کبھی مکمل نہیں ہوتی۔
جسم یہاں سے نکل جاتا ہے، مگر دل یہیں رہ جاتا ہے۔
میری رگوں میں اگر کچھ روشنی ہے، میرے لفظوں میں اگر کچھ اثر ہے، میرے کام میں اگر کوئی وقار ہے — تو وہ سب علیگڑھ کی دین ہے۔
کیونکہ:
“علیگڑھ سے رشتہ علم کا بھی ہے، عشق کا بھی؛ یہ وہ بندھن ہے جو وقت سے نہیں، دل سے بندھا ہے!”
علیگڑھ صرف ایک مقام نہیں، ایک مقامِ عشق ہے۔
یہ صرف درسگاہ نہیں، درسِ حیات ہے۔
یہ صرف یونیورسٹی نہیں، ایک انقلاب ہے — ایسا انقلاب جو قلم سے برپا ہوا، زبان سے پروان چڑھا، اور کردار سے دنیا میں چمکا۔
“علیگڑھ صرف ایک ادارہ نہیں، ایک ایمان ہے؛
یہاں کی چائے میں مٹھاس ہے، اور تربیت میں اخلاص؛
یہاں سے جدا ہونا ممکن ہے، بھولنا نہیں!”





![]()
