
از قلم: ڈاکٹر محمد اسلم علیگ
ہمارے ملک میں ایک عجیب و غریب رواج عام ہے—دکانیں دن چڑھے کھلتی ہیں، رات گئے تک کھلی رہتی ہیں، اور دکاندار حضرات یہ گمان رکھتے ہیں کہ گاہک صرف اندھیروں میں آتا ہے۔ حالانکہ اگر دکانیں صبح سات یا آٹھ بجے کھول کر شام سات بجے بند کر دی جائیں تو نہ صرف بجلی کے بل میں کم از کم 25 فیصد کمی آئے گی بلکہ دن کا وقت زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال ہو سکے گا۔ سوال یہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں تو یہی معمول ہے، تو ہم کیوں اس سے محروم ہیں؟
اسلام کا حکم اور نبویؐ طرزِ عمل
اسلام ہمیں رات کو جلد سونے اور صبح جلد جاگنے کی تعلیم دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا معمول تھا کہ عشاء کی نماز کے بعد غیر ضروری بات چیت سے گریز کرتے اور آرام فرما لیتے۔ آپ ﷺ نے صبح کی برکت کے لیے دعا بھی کی:
“اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا”
(اے اللہ! میری امت کے لیے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما) – سنن ابو داؤد
یعنی صبح جلدی اٹھنا اور کام کا آغاز کرنا نہ صرف عبادت کے قریب ہے بلکہ کامیابی کا راز بھی ہے۔ قرآن کریم میں بھی صبح کے اوقات کی قسم کھائی گئی ہے: “وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ” (صبح جب سانس لیتی ہے) – اس میں اس وقت کی اہمیت واضح کی گئی ہے۔
ترقی یافتہ قوموں کا معمول
دنیا کے کامیاب ممالک—چین، جاپان، جرمنی، اور یورپ کے بیشتر حصے—صبح کے اوقات میں ہی اپنی معاشی سرگرمیاں شروع کرتے ہیں۔ چین میں دکانیں عموماً شام چھ بجے تک بند ہو جاتی ہیں۔ وہاں لوگ شام کا کھانا جلدی کھاتے ہیں، رات جلد سوتے ہیں اور صبح تروتازہ ہو کر کام پر جاتے ہیں۔ جاپان میں بھی صبح جلدی اٹھنا معاشرتی اور کاروباری کامیابی کا بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے۔
ان ممالک میں دیر رات تک کاروبار کا تصور ہی نہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ رات نیند کے لیے ہے، نہ کہ بے مقصد جاگنے کے لیے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان کی معیشت مضبوط، معاشرت منظم اور صحت بہتر ہے۔
طبی نقطۂ نظر
میڈیکل سائنس کے مطابق انسانی جسم کا بایولوجیکل کلاک (Circadian Rhythm) قدرتی روشنی کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
• رات جلد سونے سے ہارمون میلٹونن کی قدرتی پیداوار بہتر ہوتی ہے، جو نیند کو گہرا اور پُر سکون بناتا ہے۔
• صبح جلد اٹھنے سے دماغ میں سیرٹونن کی مقدار بڑھتی ہے، جو خوشی اور مثبت سوچ کا سبب ہے۔
• نیند پوری ہونے سے قوتِ مدافعت بہتر ہوتی ہے، دل کے امراض، ذیابیطس اور ذہنی دباؤ کے امکانات کم ہوتے ہیں۔
دیر رات تک جاگنے سے جسمانی گھڑی بگڑتی ہے، ہارمونز کے نظام میں خلل آتا ہے، آنکھوں کی روشنی متاثر ہوتی ہے، یادداشت کمزور ہوتی ہے اور مزاج میں چڑچڑاہٹ پیدا ہوتی ہے۔
صبح دیر سے جاگنے کے نقصانات
- وقت کا ضیاع – صبح کا قیمتی وقت گزر جانے سے دن کا کام کم ہوتا ہے اور دباؤ بڑھتا ہے۔
- رزق کی برکت میں کمی – صبح کے اوقات میں کاروبار کا آغاز کرنے والے عموماً زیادہ کامیاب ہوتے ہیں۔
- صحت کی خرابی – موٹاپا، ہارمونل ڈسٹربنس اور ذہنی تناؤ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
- معاشرتی نقصان – اہلِ خانہ کے ساتھ وقت کم ملتا ہے، گھریلو تعلقات کمزور پڑ جاتے ہیں۔
صبح جلدی جاگنے کے فوائد
• کاروباری برکت: دن کا زیادہ حصہ روشنی میں کام کرنے سے بجلی کا خرچ کم اور کارکردگی زیادہ ہوتی ہے۔
• صحت میں بہتری: جسمانی توانائی اور دماغی کارکردگی عروج پر رہتی ہے۔
• سماجی ہم آہنگی: اہلِ خانہ کے ساتھ وقت ملتا ہے، تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔
• روحانی فائدہ: فجر کی نماز باجماعت پڑھنے کا موقع ملتا ہے، جو دن بھر کی کامیابی کا زینہ ہے۔
ہمارے لیے عملی لائحہ عمل
- کاروبار کا وقت بدلیں – دکان صبح 7–8 بجے کھولیں، شام 7 بجے بند کریں۔
- گاہک کی عادت بدلیں – چند دن کی مشق سے لوگ دن میں آنے کے عادی ہو جائیں گے۔
- اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزاریں – رات گھر میں بیوی بچوں کے ساتھ کھانے اور گفتگو کا وقت نکالیں۔
- اسلامی رہنمائی اپنائیں – عشاء کے بعد بلا ضرورت جاگنے سے گریز کریں۔
ہم انسان ہیں، اُلو یا چمگادڑ نہیں۔ روشنی میں کام کریں، اندھیروں میں آرام کریں۔ رات سکون اور عبادت کا وقت ہے، دن محنت اور کامیابی کا۔ جب ہم اپنی عادات کو دنیا کی کامیاب قوموں اور اسلام کی سنہری تعلیمات کے مطابق ڈھال لیں گے تو ان شاء اللہ ہماری زندگی میں برکت، معیشت میں ترقی اور صحت میں بہتری ضرور آئے گی۔
![]()
